سود خوری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بیاج پر روپیہ چلانے کا عمل، بیاج کھانا، سود کھانا۔ "شراب نوشی، بدمستی، بداخلاقی، جنون، سودخوری، لوٹ کھسوٹ، اور مال کی محبت بوانہوسی جوع البقر تک پہنچ گئی تھی۔"      ( ١٩٦٦ء، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر، ١٠٣ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم جامد 'سود' کے ساتھ فارسی مصدر 'خوردن' سے فعل امر 'خود' میں 'ی' بطور لاحقہ کیفیت کے اضافے سے 'خوری' ملا کر مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٨٧٠ء کو "خطبات احمدیہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بیاج پر روپیہ چلانے کا عمل، بیاج کھانا، سود کھانا۔ "شراب نوشی، بدمستی، بداخلاقی، جنون، سودخوری، لوٹ کھسوٹ، اور مال کی محبت بوانہوسی جوع البقر تک پہنچ گئی تھی۔"      ( ١٩٦٦ء، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر، ١٠٣ )

جنس: مؤنث